

’’نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات‘‘ (1)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’نورِ ایمان جب انسانی نفس پر اپنا تسلط حاصل کرلیتا ہے اور اُس کو اپنے تابع کرلیتا ہے اور اُس کی گندی اور خسیس صفات کو اچھی اور عمدہ صفات میں بدل دیتا ہے تو انسانی نفس میں درجِ ذیل مقامات پیدا ہوتے ہیں:
(1۔ توبہ)
نفس کے مقامات میں سے پہلا مقام ’’توبہ‘‘ ہے ۔
(توبہ کی حقیقت)ـ: جب ایمان کا نور‘ انسانی ’’عقل‘‘ کو سچے اور حق عقائد سے منور کردیتا ہے اور وہ ’’عقل‘‘ سے قلب میں اُتر کر ’’قلب‘‘ کی جبلی ساخت کے ساتھ باہم مل جاتا ہے تو نورِ ایمانی، ’’نفس‘‘ کو اپنے تابع کرکے تنبیہ کرنے والا جذبہ پیدا کرتی ہے جو نفس کو نورِ ایمانی کی مخالف باتوں پر ڈانٹتا رہتا ہے، اس سے اُن میں ندامت اور شرمساری کی حالت پیدا ہوتی ہے، جو ’’نفس‘‘ کو مغلوب کرکے اپنے تمام لوازمات کے ساتھ گھیر لیتی ہے، تب نفس اور قلب کے درمیان آئندہ زمانے میں گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ پیدا ہوتا ہے، پھر وہ قلبی ارادہ ’’نفس‘‘ پر حاوی ہوکر اُسے شریعت کے احکامات پر عمل کرنے اور شریعت کی جانب سے منع کی گئی باتوں سے اپنے آپ کو روکنے پر مطمئن کردیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوٰى ﴾ (79 - النازعات: 41-40) (اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اس نے اپنے جی کو خواہش سے، سو بہشت ہی ہے اس کا ٹھکانا)۔
(نورِ ایمانی کا ’’عقل‘‘ پر اُترنا): میں کہتا ہوں کہ: اللہ تعالیٰ کے اس قول﴿مَنْ خَافَ﴾ میں عقل کا نورِ ایمانی سے منور ہوجانے اور پھر اس نور کا عقل سے دل پر اُترنے کا بیان ہے۔ اس لیے کہ خوف کی ایک ابتدا اور ایک انتہا ہوتی ہے:
٭خوف کی ابتدا یہ ہے کہ جس ذات (رب تعالیٰ کے بلند مقام) سے ڈرایا جا رہا ہے، اُس کی اور اُس کی سطوت اور شوکت کی معرفت کا پیدا ہونا، اس کا محل ’’عقل‘‘ ہے۔
٭خوف کی انتہا؛ گھبراہٹ، بے چینی اور وحشت کا ہونا اور اس کا محل ’’قلب‘‘ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس قول:﴿وَنَهَى النَّفْسَ ﴾ میں اس کا بیان ہے کہ نورِ ایمانی -جو قلب کی جبلت اور سختی کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے - کا ’’نفس‘‘ پر نزول کرنا اور اس کو اپنے تابع کرکے اُس کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور اُسے مغلوب کرنا اور اپنے حکم کے تابع کرنا۔
(نورِ ایمانی کا ’’عقل‘‘ سے ’’قلب‘‘ پر آنا): پھر ’’عقل‘‘ سے دوسری مرتبہ نورِ ایمان ’’قلب‘‘ پر نازل ہوتا ہے اور اُس کی جبلت کے ساتھ باہم مل جاتا ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان اللہ کی پناہ حاصل کرنے اور اُس سے التجا کرنے کی حالت پیدا ہوتی ہے۔ یہ چیز انسان کو استغفار کرنے اور اللہ کی جانب رجوع کی طرف لے جاتی ہے۔ استغفار؛ ’’نفس‘‘ کو صاف ستھرا بنا دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جب مؤمن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے اور مغفرت طلب کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ گناہ میں بڑھتا چلا جائے تو وہ سیاہ نکتے بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اس کے دل پر غالب آ جاتے ہیں، یہی وہ ’’رَانَ‘‘ (زنگ) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے: ’’ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ ہے‘‘ (-83 التّطفیف: 14)۔ (مشکوٰۃ:2342)
مَیں یہ کہتا ہوں کہ: سیاہ نکتے کا مطلب دراصل بہیمیت کی ظلمتوں میں سے ایک ظلمت کا ظاہر ہونا ہے اور مَلَکیت کے انوار میں سے ایک نور کا چھپ جانا ہے۔ ’’قلب‘‘ کے صاف ستھرا ہونے کا مطلب وہ روشنی ہے، جس کا فیضان نورِ ایمانی سے ’’نفس‘‘ پر ہوتا ہے۔ اور ’’زنگ‘‘ سے مراد؛ بہیمیت کا غلبہ اور مَلَکیت کا بالکل چھپ جانا ہے۔
(نورِ ایمانی کا ’’نفس‘‘ کو گناہوں سے روکنا):پھر نورِ ایمان کا ’’نفس‘‘ پر بار بار نزول ہوتا ہے اور وہ نفسانی خیالات کو دفع کرتا رہتا ہے۔ پس جب بھی نفس میں گناہ کا خیال پیدا ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں یہ نور نفس پر نازل ہوتا ہے اور اُس باطل کا سر کچل دیتا ہے اور اسے مٹا دیتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ نے صراطِ مستقیم کی مثال بیان فرمائی کہ راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک داعی ہے، وہ کہہ رہا ہے: سیدھے چلتے جاؤ، ٹیڑھے مت ہونا۔ اور اس کے اوپر ایک اَور داعی ہے۔ جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: ’’تم پر افسوس ہے! اسے مت کھولو، کیوں کہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہو جاؤ گے‘‘۔ پھر آپؐ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’صراطِ مستقیم‘‘ سے مراد اسلام ہے۔ کھلے ہوئے دروازے‘ اللہ کی حرام کردہ اشیا ہیں۔ لٹکے ہوئے پردے‘ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں۔ راستے کے سِرے پر داعی‘ قرآن ہے اور اس کے اوپر جو داعی ہے، وہ ہر مؤمن کے دل میں اللہ کا واعظ ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ: 191)
مَیں یہ کہتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہاں دو داعیوں کا بیان فرمایا ہے: ایک داعی راستے کے سِرے پر کھڑا ہوا قرآن اور شریعت ہے۔ یہ انسان کو سیدھے راستے کی طرف ایک ترتیب کے ساتھ دعوت دیتے ہیں۔ دوسرا داعی سالک (سفر طے کرنے والے) کے سر کے اوپر موجود ہوتا ہے، جو ہر دم اُس کی نگرانی کرتا ہے جب بھی وہ کوئی گناہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیخ کر اُسے اس سے روکتا ہے۔
یہ وہ خیال ہے، جو ’’قلب‘‘ کی جبلت اور اُس ’’قلب‘‘ پر قرآن کے نور سے منور ’’عقل‘‘ کے نور کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ اُس شرارے کے مشابہ ہے، جو (آگ والے) پتھر سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد پھوٹتا ہے۔
بسا اوقات اللہ کی اپنے بعض بندوں پر خاص مہربانی ہوتی ہے کہ کوئی ’’غیبی لطیفہ‘‘ اُس کے اور گناہوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ ’’برہان‘‘ اور لطیفہ ہے، جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ کیا گیا ہے: ’’اور البتہ عورت (زلیخا) نے فکر کیا اس (یوسفؑ) کا، اور اس نے فکر کیا عورت کا،اگر نہ ہوا ہوتا یہ کہ دیکھے قدرت (برہان) اپنے رب کی‘‘۔ (-12 یوسف: 24) یہ تمام پہلو توبہ کے ’’مقام‘‘ میں سے ہیں‘‘۔
(حُجّۃ اللّٰہ البالغہ، أبواب الإحسان، باب: 4، المقامات والأحوال)

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri
Spiritual Mentor of Khanqah Aalia Rahimia Qadiria Azizia Raipur
Chief Administrator Rahimia Institute of Quranic Sciences
Related Articles
اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار (2)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (4۔ ’’اللّٰہ أکبر‘‘ کی عظمت اور سلطنت ) ’&rs…
سماحت ِنفس: انسانیت کا تیسرا بنیادی خُلق
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’(انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے) تیسرا اصول ’’سماحتِ نف…
احسان و سلوک کی ضرورت اور اہمیت (1)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ شریعت نے انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام کے حوالے س…
مختلف اوقات اور حالات کی دعائیں(4)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (نئے کپڑے پہننے کی دعائیں) جب نیا کپڑا پہنے تو یہ دعائیں پڑھے: (1) …
