حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ - صحابہؓ کا ایمان افروز کردار

Maulana Qazi Muhammad Yousuf

Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Jul 21, 2022 - Eman Afroz Waqeyat
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ  - صحابہؓ کا ایمان افروز کردار

صحابہؓ کا ایمان افروز کردار                   

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ غزوۂ خیبر کے سال (۷ھ / 628ء) مسلمان ہوئے۔ آپؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں۔ آپؓ عقل مند فضلا اور فقہا صحابہ کرامؓ میں شمار ہوتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے آپؓ کو فقہ و دین کی تعلیم کے لیے بصرہ روانہ فرمایا۔ آپؓ نے پوری زندگی وہیں بسر کردی۔

حضرت عمران بن حصینؓ باغ و بہار مزاج کے مالک تھے، مگر شریعت اور دائرۂ حق کا ہمیشہ دھیان رکھتے تھے۔ ۵۲ھ / 672ء میں آپؓ کی وفات ہوئی۔آپ اپنے شاگردوں کا امتحان‘ سوالات کے ذریعہ لیتے تھے۔

آپؓ سے حضرت حسن بصریؒ، امام محمد بن سیرینؒ، علامہ شعبیؒ ایسے اکابر تابعین نے روایت کی ہے۔ معروف محدث و مؤرخ حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ: ’’احادیث کی کتب میں حضرت عمران بن حصینؓ کی روایاتِ حدیث موجود ہیں‘‘۔ آپؓ کی ایک روایت کو امام حاکمؒ نے اپنی ’’مستدرک علی الصّحیحین‘‘ میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے فاطمہ! اپنی قربانی کی خدمت کرو اور اسے ذبح ہوتے ہوئے دیکھو۔ تیرا ہر گناہ قربانی کے پہلے قطرے کے زمین پر گرتے ہی بخش دیا جاتاہے اور ذبح کے وقت یہ پڑھو: ’’بے شک میری نماز، اور میری قربانی، اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں حکم برداروں میں سے ہوں‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عمل بڑی اہمیت کا حامل ہے اور قربانی کے جانور کی دیکھ بھال اور خدمت کرنی چاہیے، جس طرح آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو نصیحت کی۔ اسی طرح قربانی کے جانور کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھنا بھی چاہیے، تاکہ انسان کی ذہنی، عقلی اور نفسیاتی وابستگی ذاتِ حق کے ساتھ مخلصانہ طور پر پیدا ہو۔ قربانی سے نفس کا علاج ہو۔ انفرادیت کامرض دور ہو اور مال کی محبت کا علاج ہو۔قربانی کرتے وقت دینِ حق کے عظیم مقاصد اور ملتِ حنیفیت کے عملی مظاہر سے وابستگی اور مناسبت پیدا ہو۔ توحید ِالٰہی کے بلند نصب العین سے شعوری ربط پیدا ہو۔ ہر غیر حق کی غلامی سے آزادی کا عزمِ مصمم وجود میں آئے۔ انسان ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے دل کو پاک کرکے مغفرت و بخشش کی گراں قدر گھٹاؤں میں روحانی تازگی اور شرحِ قلب کے ساتھ زندگی کے میدانوں میں قدم رکھ سکے۔

اس حدیث سے یہ رہنمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی نسلِ نو کو ہر عمل سے شعوری وابستگی کا پیغام دیا۔ ذہنی وعقلی قوتیں اور عملی صلاحیتیں ایک ہی نظریے اور ایمان سے جڑی ہوئی ہوں تو نتائج پیدا ہوتے ہیں۔

مولانا قاضی محمدیوسف، حسن ابدال

Related Articles

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ ہجرتِ مدینہ سے 16 سال قبل پیدا ہوئے۔ آپؓ کے دادا عمرو بن حرام انصاری اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ بیعتِ عقبہ ثانیہ کے وقت آپؓ اپنے…

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Jun 15, 2023

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بنتِ حارث

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش سے تھیں۔ آپؓ کے والدین نے آپؓ کانام ’’برّہ‘‘ رکھا تھا۔ جب حضورؐ کے نکاح میں آئیں تو آپؐ نے ان کا نام …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Jul 12, 2021

حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ  (1)

حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ مشہور صحابیٔ رسول ہیں۔ آپؓکا تعلق ملک شام کے ایک قبیلہ لخم سے تھا۔ آپؓ کی ساتویں پشت پر آپؓ کے جد ِامجد کا نام ’’الدار‘…

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Apr 10, 2022

حضرت ابن عمرؓ اور جماعتی زندگی میں باہم تعاون کے رویے

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا۔ ایک بار ایک بکری ذبح کی۔ گھر والوں سے پوچھا کہ تم نے ہمارے یہودی ہمسایہ کے پاس گوشت ہدیہ بھیجا یا نہیں؟ رسول اللہؐ نے …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Aug 10, 2021