دعائے شیخ
الْلّٰھُمَّ
اِقْذِفْ فِیْ قُلُوْبِنَا رَجَاءَكَ
وَ اقْطَعْ رَجَائَنَا عَمَّنْ سِوَاكَ حَتّیٰ لَا نَرْجُوْ أَحَدًا غَیْرَكَ
اَلْلّٰهُمَّ
وَمَا ضَعُفَتْ عَنْهٗ قُوَّتُنَا وَ قَصَرَ عَنْهٗ عِلْمُنَا وَلَمْ تَنْتَهِ إِلَیْهِ رَغْبَتُنَا وَلَمْ تَبْلُغْهُ مَسْأَلَتُنَا وَلَمْ یَجْرِ عَلیٰ أَلْسِنَتِنَا، مِمَّا أَعْطَیْتَ أَحَدًا مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ وَ الْآخِرِیْنَ مِنَ الْیَقِیْنِ، فَخُصَّنَا بِهٖ یَا أَرْحَمَ الْرَّاحِمِیْنَ
آمِـــــــــيْن يَا رَبَّ العَالَمِينَ
اے اللّٰہ!
ہمارے دلوں میں اپنے ساتھ امید کو پیوست (وابستہ) کر دیجیے،
ہماری امید کو اپنے سوا سے منقطع کر دیجیے یہاں تک کہ ہم آپ کے علاوہ کسی سے بھی امید نہ رکھیں،
اے اللّٰہ!
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے !
وہ یقین (محکم) جو آپ نے پہلوں اور بعد والوں میں سے کسی کو عطا کیا ہے، کہ جس کو حاصل کرنے میں ہماری طاقت ناکام رہی، جس (کے فہم) سے ہمارا علم قاصر رہ گیا ، جس (سطح) تک ہماری رغبت نہیں پہنچی، جس (حد) تک ہماری طلب کی رسائی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہماری زبانوں پر اس کا ذکر آیا، وہ ہمیں آپ خصوصیت کے ساتھ دے دیجیے
اے اقوامِ عالَم کے پروردگار !
ہماری دعائیں قبول فرما لیجئے!