دعائے شیخ
اَلْلّٰهُمَّ
اُسْتُرْ وَ اجْعَلْ تَحْتَ الْسَّتْرِ مَا تُحِبُّ فَرُبَمَا سَتَرْتَ مَا تَکْرَهُ،
جَمَعَ اللّٰهُ ھَمَّنَا وَ لَا شَتَّتَ سِرَّنَا،
وَ قَطَعَنَا عَنْ کُلِّ قَاطِعٍ یَّقْطَعُنَا،
وَ وَصَلَنَا إِلیٰ کُلِّ وَاصِلٍ یُّوْصِلُنَا إِلَیْهِ،
وَجَعَلَ غِنَانَا فِیْ قُلُوْبِنَا وَ شَغَلَنَا بِهٖ عَمَّنْ سِوَاهُ،
وَ رَزَقَنَا أَدَبًا یَّصْلَحُ لِمُجَالَسَتِهٖ،
وَ أخْرَجَ مِنْ قُلُوْبِنَا مَا لَا یَرْضیٰ وَ أسْکَنَ فِیْهَا رَضَاهُ.
آمِـــــــــيْن يَا رَبَّ العَالَمِیْنَ
اے اللّٰہ!
آپ ہماری (عیوب پر) پردہ پوشی فرمائیے اور اپنے پردہ کے نیچے وہ سب کچھ رکھ دیجیے جو آپ کو پسند ہے، کہ بسا اوقات آپ اس کی بھی ستر پوشی فرماتے ہیں جسے آپ ناپسند کرتے ہیں،
اللّٰہ تعالیٰ ہماری فکر و توجہ کو یکجا کر دے، ہمارے باطن کو منتشر (پریشان خیال) نہ ہونے دے،
ہمیں ہر اس رکاوٹ سے کاٹ دے جو ہمیں (اللہ سے) کاٹتی ہے، اور ہمیں ان تمام سے ملا دے جو ہمیں اس (اللّٰہ تعالیٰ) تک پہنچا دیں،
ہماری غنا (دوسروں سے بے احتیاجی) کو ہمارے دلوں میں رکھ دے اور ہمیں اپنی یاد میں ایسا مشغول کر دے کہ ہم اس کے سوا ہر چیز سے بے پروا ہو جائیں،،
وہ ہمیں ایسا ادب عطا کر دے جو اس (ذات) کی ہمنشینی کے لائق ہو،
ہمارے دلوں سے وہ سب کچھ نکال دے جسے وہ پسند نہیں کرتا اور ان میں اس کو بسا دے جس سے وہ راضی ہے۔
اے اقوامِ عالَم کے پروردگار !
ہماری دعائیں قبول فرما لیجئے!