دعائے شیخ
اَللَّهُمَّ
إِنَّانَعُوْذُ بِكَ یَا اللّٰهُ مِنْ فَرَاغِ الْعَیْنِ وَ الْقَلْبِ، وَ نَعُوْذُ بِكَ مِنْ حُبِّ الْدُّنْیَا وَ الْتَّعَلُّقِ بِشَیْئٍ مِّنْھَا أَوِ الْإِنْشِغَالُ بِنَا عَنْكَ یَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اَللَّهُمَّ
لَا تَبْتَلِیْنَا بِمَا ھُوَ فَوْقَ طَاقَتِنَا،
وَ إِنِ ابْتَلَیْتَنَا فَأَلْھِمْنَا الْصَّبْرَ الْجَمِیْلَ وَ الْعَطَاءَ ؛ اَلَّذِیْ لَا یَخْطُرُ عَلیٰ قَلْبِ بَشَرٍ یَا أَرْحَمَ الْرَّاحِمِیْنَ
آمِين يَا ربَّ الْعَالَمِیْنَ
اے اللّٰہ!
بیشک ہم ، اے اللّٰہ! (اپنی) آنکھوں اور دل کے خالی (آپ کی مَحبت سے غافل) ہونے سے، آپ کی پناہ میں آتے ہیں،
اے ہمارے پروردگار !
ہم دنیا کی مَحبت اور اس میں موجود ہر چیز کے ساتھ لگاؤ سے یا(اپنے آپ میں) اس طرح مشغول ہو جانے سے کہ آپ سے غافل ہو جائیں، اے تمام جہانوں کے پروردگار! آپ کی پناہ میں آتے ہیں۔
اے اللّٰہ!
آپ ہمیں اس (آزمائش) میں مبتلا نہ کیجیے جو ہماری طاقت سے بالاتر ہو، اور اگر (بالفرض اس میں) آپ ہمیں مبتلا کریں تو پھر ہمیں صبر جمیل (بہتر برداشت) اور اپنی وہ عطا (نوازش) ہمارے دل میں ڈال دیجئے جس کا تصور بھی کسی انسان کے دل پر نہ آیا ہو۔
اے ارحم الراحمین !
(ہم پر رحم فرمائیے!)
اے اقوامِ عالَم کے پروردگار !
ہماری دعائیں قبول فرما لیجیے!