وبا کے سائے میں

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
اپریل 06, 2020 -
وبا کے سائے میں

سال 2020ء میں امریکی الیکشن کے تناظر میں امریکا کا دنیا میں جاری مختلف جنگوں سے نکلنا، چین اور روس کو نیچا دکھانا، یورپی یونین کو کمزور کرنا اور امریکا کی مقامی معیشت کو سہارا دینا دراصل موجودہ امریکی انتظامیہ کا ہدف رہا ہے، لیکن اُسے ہر میدان میں کافی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چناںچہ ایران امریکا کشیدگی، افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی، امریکا چین تجارتی جنگ اور کرونا وائرس کے بعد OPEC ممالک میں تیل کی ترسیل سے متعلق کھینچا تانی اور ایسے ہی کئی دیگر اُمور کا تعلق امریکی سیاسی رجحان سے ہی ہے۔ اس ماحول میں پاکستانی مقتدرہ نے اپنا حصہ خوب طے کیا۔ چناںچہ افغانستان میں کردار ادا کرنے کے بدلے میں امید بن چلی تھی کہ پاکستان کو IMF اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے خاطر خواہ امداد مل جائے گی اور اس ماحول میں معدنی تیل کی قیمتوں میں بے پناہ کمی نے تو پاکستان کے دن بدلنے کی نوید سنادی تھی۔ 
چناںچہ مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے اس آواز کو بلند کیا جانے لگا کہ اسٹیٹ بینک اب شرح سود کم از کم دو فی صد تک کم کرے، تاکہ کاروباری سرگرمیاں بڑھائی جاسکیں۔ دوسری جانب حکومت سود کی ادائیگی سے بچنے والی رقم کو ترقیاتی کاموں، بالخصوص گھروں کی تعمیر میں لگائے تاکہ روزگار کے ذرائع بڑھیں۔ تیسرا یہ کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کو بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں تبدیل کیا جائے اور پیداواری خرچ کو کم کرتے ہوئے برآمدی صنعت کو اَور مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔ کرونا وائرس جب تک پاکستان میں نہیں آیاتھا، اُس وقت تک ہماری معیشت عمومی طور پر محفوظ تھی، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اب یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ پہلے سے نازک اور کمزور معیشت اب شاید ہی بڑے جھٹکے کے لیے تیار ہو۔ جہاں درآمدات میں کمی ہوگی، وہاں برآمدات میں بھی کمی ہوگی۔ تیل کی درآمد سے جو رقم بچے گی، وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کی کمی کو ہی برابر کرلے تو کافی ہوگا۔ کیوںکہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ عالمی سطح پر کساد بازاری خاص طور پر دوسرے ممالک سے آنے والے مزدوروں پر بھاری پڑے گی اور وہ اپنے گھروں میں پہلے سے کم رقوم بھیج سکیں گے۔ 
2003ء میں سارس وائرس آیا تھا۔ جب چین کی معیشت کا عالمی پیداوار میں 4 فی صد حصہ تھا۔ اُس وقت دنیا اس قدر باہم متصل نہیں تھی۔ اس لیے 25 ممالک میں 800 کے لگ بھگ اموات برداشت کرلی گئی تھیں، لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے۔ آج چین کا دنیا کی کُل پیداوار میں حصہ 19 فی صد ہے اور دنیا ترسیلِ زر و صنف کے ایک پیچیدہ نظام سے منسلک ہے، جس سے خاص طور پر انسانوں کی خوردنی ضروریات بھی وابستہ ہوچکی ہیں ۔ کرونا وائرس کا پھیلاؤ یہ بتا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں اس تسلسل کے متأثر ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ چین کے حالیہ بیانات کی روشنی میں کُچھ تجزیہ نگار کرونا وائرس کو بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن اس میدان میں بھی چین جیت رہا ہے۔ ایسے میں بہت ضروری ہے کہ ہم چین کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنائیں اور پاکستان کو معاشی تباہی سے بچانے کی سر توڑ کوشش کریں۔
 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں