روزے اور قرآن کی بندے کے حق میں سفارش

روزے اور قرآن کی بندے کے حق میں سفارش

عَنْ عبد اللّٰہ ابن عمرؓ أنّ رسول اللّٰہ ﷺ قال: ’’الصّیامُ والقرآن یُشَفِّعان یوم القیامۃ للعبد۔ یقول الصّیام: أی ربِّ! منعتُہ الطّعام والشّہوۃ، فشَفِّعْنی فیہ، و یقول القرآن: منعتُہ النّومَ باللّیل فشَفِّعْنی فیہ‘‘، قال: ’’فَیُشَفَّعان لہ‘‘۔(مشکوۃ 171/1)

(حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن بندے کے حق میں خود روزہ اور قرآن سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے اس کو کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے روکے رکھا۔ اس بندے کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر اللہ کے در بار میں قرآن عرض کرے گا: اے اللہ! میں نے اس کو راتوں میں سونے سے روکے رکھا۔ اس بندے کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا: ’’ان کی سفارش بندے کے حق میں قبول ہے‘‘۔)

زیرِنظر حدیث کی رُو سے قرآن حکیم کی تلاوت کرنا اور اُس سے دلی لگائو رکھنا اور رَمضان کے مہینے میں روزے رکھنا اس قدر قیمتی اعمال اور انسان کے لیے باعث عِز و شرف ہیں کہ مؤمن کے گناہوں کی معافی اور اللہ کی رضا کے حصول کا باعث بن سکتے ہیں۔ رمضان المبارک میں رکھے گئے روزے اور اس کی راتوں کو کی گئی قرآن کی تلاوت یا اس کا سُننا اللہ کو بہت پسند اور نہایت مبارک عمل ہے۔ رمضان کے روزوں سے انسان کے اندر سے نفسانی خواہشات اور حیوانی تقاضوں میں کمی آتی ہے۔ روح پاکیزہ اور صاف ستھری ہوجاتی ہے، جب کہ قرآن حکیم کی تلاوت سے انسان کا وجود آیاتِ الٰہیہ کے نور سے منور ہوجاتا ہے۔ ا س طرح اللہ تبارک و تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

یہ دونوں اعمال بندے کے حق میں اللہ کے رُو بہ رُو روز ِقیامت سفارش کریں گے۔ روزہ پروردگار کے حضور کہے گا کہ: اے اللہ! میں نے اسے کھانے پینے سے روکا اور بھوکا پیاسا رہنے پر مجبور کیا۔ اس کے اس عمل کو قبول کرکے آپ اس بندے کی لغزشوں کو معاف فرما دیں۔ قرآن پروردگار کے حضور التجا کرے گا کہ: میں نے اس کو رمضان کی راتوں میں اپنے ساتھ مشغول رکھا، اس کو تھکایا اور سونے نہ دیا۔ اے ربّ! اس کے اس مبارک عمل پر میری سفارش قبول کر اور اسے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لے۔ پروردگار کمال مہربانی سے بندے کے حق میں ان دونوں کی سفارش قبول کرلیں گے۔

قرآن و سنت میں اعمالِ صالحہ پر ایسے گراں قدر اجر کے وعدے اس امر کے ساتھ مشروط ہیں کہ ان اعمال کو ان کے تمام تقاضوں اور آداب کے ساتھ ادا کیا گیا ہو۔ جب بندہ کسی عبادت کو اس کی رُوح کے مطابق ادا کرنے کی بساط بھر کوشش کرتا ہے تو بشری کوتاہیوں، کمزوریوں اور صغیرہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی شانِ کریمی سے درگزر فرما کر شرفِ قبولیت سے نواز دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دونوں اعمال ہمیں یکسوئی سے ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ ہمیں اس قابل بنائے کہ رمضان اور قرآن روز ِقیامت اللہ کے رُو بہ رُو ہماری سفارش کریں۔

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز
مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز

پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد ناصرعبدالعزیز ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے ممبر ایڈوائزری بورڈ اور حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے مجازین میں سے ہیں۔ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم جامعہ خیر المدارس ملتان سے حاصل کر کے 1989ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ 1994ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) سے ایل ایل بی آنرزشریعہ اینڈ لاءکیا۔ ازاں بعد پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے بطور استاد وابستہ ہوگئے۔ اس دوران  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ آج کل گورنمنٹ  گریجویٹ کالج جھنگ کے شعبہ اسلامیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسرہیں اور مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ انوار العلوم عثمانیہ ریل بازار جھنگ صدر کے اہتمام و انصرام کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رحیمیہ نظام المدارس کے ناظم امتحانات بھی ہیں۔  "ماہنامہ رحیمیہ" میں درسِ حدیث کے عنوان سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز اگست 10, 2021

عذابِ جہنم سے بچانے والے اعمال

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ’’أَلا أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یَحْرُمُ عَلَی النَّارِ، أو بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ؟ عَلٰی کُلِّ قَرِیْبٍ، ھَیِّنٍ، سَھْلٍ‘‘۔ (ال…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز جنوری 14, 2023

غیرمسلم کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم

عَنْ أَسْمَائَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ أُمِّی وَ ھِی مُشْرِکَۃٌ فِیْ عَھْدِ قُرَیْشٍ و مُدَّتِھِمْ، إِذْ عَاھَدُوْا النَّبِیِّ ﷺ، مَعَ أَبِیْھَا، فَاسْتَفْتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّی قَدِمَتْ وَ ھِیَ رَاغِبَۃٌ، أفأصِلُھا؟ قَالَ: ’’نَعَمْ صِلِیْ…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز نومبر 10, 2022

معاہدۂ  حِلفُ الفُضول کی اہمیت

عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ عَوْفٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ’’شَھِدْتُ غُلَاماً مَعَ عُمُومَتِی حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ فَمَا اُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَالنَّعَمِ وَ انّی أَنْکُثُہُ‘‘۔ (حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے م…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز مارچ 14, 2021