پاکستانی معاشرہ اور مذہبی رویے

ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
جولائی 07, 2020 - اہم مضامین
پاکستانی معاشرہ اور مذہبی رویے

قیام پاکستان کے پس منظر میں جو عوامل کارفرما تھے، ان میں انگریز کی حکمت عملی، ہندوؤں کی تنگ نظری، مسلمانوں کی معاشی بدحالی وغیره وغیره اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن ان تمام پرجو چیز حاوی نظر آتی ہے، وہ مسلمانوں کی جذباتیت ہے کہ جب انہیں نفاذ اسلام کا سنہرا سپنا دکھایا گیا تو وہ بغیر سوچے سمجھے اس سحر میں ایسے گرفتار ہوئے کہ انہوں نے نہ تو اپنے قائدین کی انگریز نوازی کی تاریخ کو دیکھا اور نہ ہی بقیہ ہندوستان میں رہ جانے والی مسلم اقلیتوں کی مستقبل کی حالت زار کا اندازہ کیا۔

بعدازیں جب پاکستان، دنیا کے نقشہ پر ظاہر ہو گیا تو یہاں بجائے حقیقی دین کے مذہب کی مختلف شکلیں اور متعدد تعبیرات ظهور پذیر ہوئیں جس کے نتیجے میں دین کی حقیقی اہمیت معاشرے کی نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گئی یوں اس ملک میں جس کے حصول کے لئے عوامی پیمانے پر سب سے بڑی قوت محرکہ دین تھا، سب سے زیادہ مظلوم صنف بھی یہی قرار پایا۔ کسی طرف سے معاشرتی امور میں مادی انکار کو نمایاں اور حقیقی اہمیت دے کر مذہب کو ایک نجی معاملہ بنا دیا گیا، کسی نے مذہب کی تعبیر اس انداز سے کی کہ اس کے دائرہ میں وسعت کی بجائے انتہائی تنگ دامنی کا احساس ہونے لگا، کسی نے مذہب کو عبادات کے روپ میں اس طریقے سے پیش کیا کہ اسلام میں بھی مسخ شدہ عیسائیت و یہودیت کی مانند معاشرتی امور سے لاتعلق نظر آنے لگا اور کسی نے مذہب کی سیاسی تعبیر کا اپنا مقصود نظر بنا لیا کہ ایک وقت کا حلال، سیاسی تقاضوں کے سبب دوسرے وقت کا حرام بن گیا اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہی مذہب کا طرہ امتیاز ٹھہری، گویا بنیادی طور پر معاشرے میں موجود مذہبی رویوں کی چار اقسام بن جاتی ہیں۔

◆ رسمی مذہب 

◆ فرقہ وارانہ مذہب

◆ قنوطی مذہب 

◆ سیاسی مذہب

رسمی مذہب

ہمارے معاشرے کی اکثریت اس مذہب پر عمل پیرا ہے، بالخصوص معاشرے کے مرفہ الحال طبقات میں تو اسی مذہب کا چلن ہے۔ اس مذہب کے نقطہ نظر سے عام معاشرتی زندگی اپنے من پسند طریقوں پر گزاری جاتی ہے خواہ کسی کی دل آزاری ہوتی ہو یا کسی کے حقوق پر زد پڑتی ہو۔ اس سے کوئی سروکار نہیں رکھا جاتا۔ اس مذہب کی رو سے کسی کے مرنے پر چند رسومات کی ادائیگی ہی حاصل مذہب ٹھہرتی ہے۔ ان رسومات کی ادائیگی کے لئے کسی مذہبی شخص کی خدمات معمولی معاوضہ پر حاصل کی جاتی ہیں۔ اسی طرح مخصوص مواقع پر کسی معروف دربار پر چند دیگیں پکا کران کو تقسیم کرنے کی تقریب منعقد کر لی جاتی ہے۔ شادی کے موقع پر کسی مذہبی فرد سے خطبہ پڑھوا لیا جاتا ہے، گویا اس مذہب کی ساری تان، غمی، شادی اور خوشی کے دیگر مواقع پر ادا کی جانے والی رسومات پر ہی ٹوٹتی ہے، اس میں زندگی کے دیگر معمولات سے کوئی بحث نہیں ہوتی۔

اس مذہب سے منسلک افراد میں مذہب سے تعلق اگر زیادہ ہوگا تو وہ رفاہی اداروں اور مساجد و مدارس کو چندہ بھی ادا کریں گے۔

اس مذہب میں اصول و نظریات پر یقین کی وہ روح نہیں پائی جاتی جو انسان کو متحرک اور باعمل بناتی ہے چنانچہ انسانی طبائع اس

مذہب کے تحت مختلف نوعیت کے اوہام و خیالات کا مجموعہ بن جاتی ہیں، چنانچہ اس مذہب کے پیر و کاروں کی نظر میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے اور دیگر عملیات کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ چنانچہ مختلف آستانوں اور درباروں میں نیز عاملوں اور پیشہ ور لوگوں کے ہاں ایسے لوگوں کی کثرت سے آمد و رفت ہوتی ہے انہیں دین کے اساسی حقائق سے زیادہ ٹونے، ٹوٹکوں پر اعتماد ہوتا ہے۔ نیز اس مذہب میں عجائب پرستی کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوتا ہے چنانچہ جہاں بھی ذرا سی کوئی بات عجیب معلوم ہوتی ہے، اس مذہب کے وابستگان اس کے معتقد بن جاتے ہیں اور اس کے پیچھے دیوانہ وار چل پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی عملی زندگی میں بے ایمانی اور بد اعتقادی کے عوامل ہی کارفرما ہوتے ہیں۔ ان پر حرص و ہوس کا غلبہ ہوتا ہے اور اللہ پر اعتماد کی جگہ اسباب پر بھروسہ ان کا مطمح نظر بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے زندگی میں کم ہمتی، بزدلی اور تھڑ دلی کے جراثیم در آتے ہیں اور یوں ان کی زندگی تمناؤں اور آرزوؤں کے سہارے گزرنے لگتی ہے۔ اخلاقی سطح نہایت پست ہو جاتی ہے، کردار کا کوئی معیار قائم نہیں رہتا عیش پرستی کی ذہنیت عام ہو جاتی ہے۔

اس کے مذہب کے پیر و کاروں کے ہاں بنیادی طور پر ذاتی اور گروہی مفادات کا حصول ہی اہمیت رکھتا ہے جس کے لیے وہ کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے کو استعمال کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے جبکہ اس کے برعکس انہیں اجتماعی مفادات سے کوئی تعلق یا لگاؤ نہیں ہوتا۔

اس مذہب کے ماننے والوں کو ایک وطیرہ یہ بھی ہے کہ وہ اسلام اور مذہب کا نام خوب استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ حقیقی دین اور اس کے علمبرداروں کو نظرِ حقارت سے دیکھتے ہیں اور ہدفِ تنقید بھی بناتے ہیں، جب کہ وہ خود معاشرت، سیاست، معیشت، معاملات اور اخلاقیات و غیره میں غیر اسلامی افکار کو اپنائے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں بیشتر سیاسی جماعتیں، افسر شاہی، جاگیر دار اور سرمایہ دار اسی مذہب کے نمائندے ہیں ان کا نعرہ ''اسلام ہمارا دین ہے'' کا یہی مفہوم ہے۔ اسی بناء پر وہ ملکی کاروبار میں مغرب کے انسانیت دشمن اصولوں کے پیرو کار ہیں۔ اور جب ان کے مفادات کا محافظ نظام کسی آزمائش میں ہوتا ہے تو وہ فورا ''اسلام خطرے میں ہے'' کی دہائی دینے لگتے ہیں، گویا ان کے ہاں اسلام، ہندومت جیسا ایک مذہب ہے جس میں مندر کی جگہ مسجد، پنڈت کی جگہ مولوی اور پوجاپاٹ کی جگہ چند مذہبی رسومات لے لیتی ہے، باقی امور میں ان میں اور ایک عیسائی، یہودی اور ہندو میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

فرقہ وارانہ مذہب

اس مذہب کو ماننے والے در حقیقت ایک مخصوص دائرے میں رہنے والے افراد کے ماسوا کسی کو اپنے سے متعلق نہیں سمجھتے وہ اپنے کچھ مزعومات و خیالات کو عقائد کا درجہ دے کر ان سے اتفاق نہ رکھنے والوں کو نہ صرف اپنے مذہب سے خارج بلکہ دین سے بھی منحرف قرار دیتے ہیں۔

اس مذہب کے پرچارک اپنے عقائد کی اشاعت سے زیادہ اس چیز کو زیادہ اہم گردانتے ہیں کہ دوسرے مذاہب کے سربراہ اور دوسرے لوگوں کو طعن و تشنیع کا ہدف بنایا جائے اور ان کے بارے میں ایسا لب ولہجہ اختیار کیا جائے جس سے اشتعال پیدا ہو۔

فرقہ وارانہ مذہب کے ماننے والے در حقیقت تنگ نظر اور جاہلی تعصب کے حامل ہوتے ہیں، ان کے مذہب کی بنیاد سب و شتم، تیرا اور کفر سازی کے فتوے ہوتے ہیں۔ بیمار ذہن کے لوگ اس قسم کے مذہب کے پرجوش حامی ہوتے ہیں۔ ستم کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جس نوعیت کے خیالات پر یہ لوگ آمادہ فساد رہتے ہیں اورجن افراد اور فرقوں کو اپنا حریف اور دشمن خیال کرتے ہیں۔ عام معمولات زندگی اور شعبہ ہائے حیات میں ان سے کسی قسم کا کوئی اختلاف ان کے عمل سے ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ اس طرح معاشرتی منکرات کو قبول کرنے میں مبینہ ''حمیت'' کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور اہل زمانہ کے ساتھ شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔

اس مذہب کے حاملین کے ہاں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی حیثیت ایک اچھوت سے زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ لب و لہجہ کی روشنی کے ساتھ طاقت کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کرتے، جس سے معاشرے میں افتراق و تقسیم کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور اس کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ فرقہ واریت کی ترویج اور عقائد حقہ کی دعوت دو متضاد نوعیت کے امور ہیں۔ فرقہ وارانہ مذہب کا محرک گروہی برتری و بڑائی اور دوسروں کی تحقیر و تنقیص ہوتا ہے جب کہ دعوت حق کا محرک انسانیت کی ہمدردی اور اس کی خیر خواہی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک مشفق باپ محض اپنی پدری شفقت اور خیر خواہی کی بناء پر اپنی محبوب اولاد کی اصلاح اور رشد و ہدایت کا طالب ہوتا ہے۔ اسی طرح داعی حق کے اندر بھی جذبہ ہوتا ہے نیز فرقہ واریت کا داعی، درشتی، طعن و تشنیع اور جہالت و تحقیر آمیز انداز اختیار کرے گا جب کہ داعی حق نرمی، آہستگی، دانش مندی اور ایسے اسلوب سے گفتگو کرے گا کہ مخاطب، داعی حق کے خلوص و محبت سے متاثر ہو گا اور اس کے دل میں بات اتر جائے گی چنانچہ منافقین تک کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ ان سے درگزر کریں اور ان کو نصیحت کریں اور ان سے ان کے اپنے بارے میں ایسی بات کریں جوان کے دل میں اتر جائے۔ (۲)

فرقہ وارانہ مذہب کے حاملین کے ہاں اچھائی اور برائی کا معیار اعتقاد اور عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کون ہمارے گروہ میں داخل ہے، جو گروہ میں داخل ہے وہ اچھا ہے خواہ اس کا کردار کتنا ہی گھناؤنا ہو اور جو گروہ سے باہرہے وہ برا ہے خواہ اس کا کردار کتنا ہی صاف ستھرا ہو۔ اس مذہب میں تعمیری کاموں کی بجائے ایک دوسرے کی تحقیر و تذلیل اور تکذیب و تنقیص ہی مذھبی خدمت تصور ہوتی ہے اور ستم یہ کہ باہمی ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی اختلاف کو عین دین قرار دیا جاتا ہے۔

فرقہ وارانہ مذہب کی ترویج کا ایک محرک معاشی مفادات بھی ہوتے ہیں، اس لئے اس مذہب کے داعی اصولی اور بنیادی حقائق سے صرف نظر کرتے ہوئے چند فروعی اور فرسودہ مسائل کی اشاعت کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیتے ہیں اور ان کی تراش خراش میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔ (۳)

قنوطی مذہب

اس مذہب کے ماننے والے اپنے تئیں عبادات پر قائم ہوتے ہیں اور ان کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ عبادت گاہوں میں مخصوص عبادات انجام دی جائیں۔ لیکن عبادت گاہوں سے باہر کی زندگی سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔ اس طرح ان کے مزاج میں ایک قسم کی رهبانیت در آتی ہے اور معاشرتی سرگرمیوں کے بارے میں ان کا رویہ قنوطیت اور مایوسی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ وہ ہر اس سرگرمی

کو خلاف مذہب گردانتے ہیں جوان کے مروجہ اور خود ساختہ معمول سے ہٹ کر ہو۔ ان کے نزدیک دنیا کسی بھی پہلو سے اس قابل نہیں کہ اس سے کوئی سروکار رکھا جائے حتیٰ کہ اس کے معاملات میں خیر خواہانہ عمل دخل تک ان کے ہاں قطعا ناپسندیدہ ہے۔ ان کے ہاں خواہ معاشرے میں جھوٹ و بد دیانتی کا چلن ہو، خواہ معیشت استحصال پر استوار ہو یا سیاست منافقت کا چرچہ ہو، انہیں صرف اپنی ذات کی اصلاح سے دلچسپی ہوتی ہے حالانکہ انسانی زندگی میں کوئی فرد اپنی ذاتی اصلاح کے مشن میں بھی اس وقت ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ معاشرے کی ریت بدلنے کی جدوجہد میں شریک ہو مگر قنوطی مذہب کے علمبردار معاشرے، معیشت و سیاست کے نظم کو بدلنے کی مخلصانہ کوشش کو نہ صرف اپنے عمل سے کہیں فروتر سمجھتے ہیں بلکہ اس کو سیاست یا دنیاداری قرار دے کر دائرہ مذہب سے خارج قرار دے دیتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ کام مسلمانوں کا نہیں ہے، ان کے زعم میں صحیح کام صرف عقائد کی اصلاح اور عبادات کی درستی ہے، اس سے ماوراء امور مذہب کی سرحد سے خارج ہیں حالانکہ عبادت کی تاثیر میں معاشرتی اعمال کی درستی مسلمہ طور پر اہمیت رکھتی ہے اسی بناء پر حدیث نبوی میں رزق حلال کے حصول کو فرض کا درجہ دیا گیا ہے۔ (۴) جب کہ اکل حرام کے مضر اثرات اس قدر ہمہ گیر ہوتے ہیں کہ وہ عبادات کو بھی ان کے حقیقی جو ہر سے محروم کر دیتے ہیں۔ (۵)

الغرض قنوطی یا رہبانی مذہب کے پیروکار، زندگی کو مختلف بلکہ متضاد خانوں میں تقسیم کر کے اس کے ایک حصہ کو مذہب کے ماتحت اور بقیہ حصوں کو مذہب کی دسترس سے دور کر دیتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو مکمل دیندار کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ عام معاشرے میں بھی نیکی اور مذہبیت کا تصور بھی یہی کچھ رہ گیا ہے یہ طرز عمل، بنی اسرائیل کے اس طرز عمل سے ملتا جلتا ہے، جس میں انہوں نے اپنی کتاب کے بعض حصوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے کچھ حصے پر عمل کرلیا کرتے تھے جس پر ان سے تہدیدی انداز میں کہا گیا کہ کیا تم بعض کتاب پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو پھر جو لوگ بھی ایسا کریں گے ان کا انجام دنیوی رسوائی کی صورت میں ظاہر ہو گا اور روز قیامت وہ اس سے بھی سخت عذاب کی جانب لوٹائے جائیں گے۔ (۶)

الغرض دین کو صرف عبادات پر مشتمل خیال کر کے معاشرتی معمولات کو اس سے علیحدہ کر دینا، عافیت پسندی کی نفسیات کی آئینہ دار ہے کہ دینوی معاملات میں دین کا احیاء مستقل اور مسلسل جدوجہد کا متقاضی ہے جس میں نفس، شیطان، طاغوت وغیرہ سب کی مخالفت ایک ناگزیر امر ہے اور یہی عامیت پسندی جدوجہد سے قنوطیت کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ معاشرے میں بالعموم دیندار سمجھے جانے والے حضرات کی زندگیاں عافیت کوشی، مصلحت پسندی، سخن پروری اور حیلہ جوئی سے عبارت ہوتی ہیں اور یہ امور قنوطی مذہب کے ہی لوازمات میں سے ہیں۔

اس مذہب میں توکل اور تقدیر کا غلط مفہوم ایک عمومی رویہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، چنانچہ مولانا محمد تقی امینی لکھتے ہیں کہ ان کے غلط مفہوم عام ہونے کے سبب عملی قوی مفلوج اور بیکار ہو جاتے ہیں، ناعاقبت اندیشی اور غیر مستعدی طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے۔ اس کے باوجود خوش فہمی اور خود فریبی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اللہ کا محبوب اور جنت کا تنہا مستحق وہ اپنے ہی کو سمجھتے ہیں اور بلا جہد و عمل اپنی تعریف کے خواہش مند رہتے ہیں۔

قنوطی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی ذہنیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ ان پر پردے پڑ جاتے ہیں اور کھلی ہوئی ترقی کی راہوں کو اپنانے کی ہمت ان میں نہیں ہوتی ہے۔ شیطان ان کے کرداروں کی اپنی نظروں میں اس طرح خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے کہ جو کچھ ان کے پاس رہتا ہے، بس اس کو کل سمجھ کر وہ مگن رہتے ہیں۔ (۷)

یورپ میں جب قرون وسطیٰ کے دوران اس مذہب کا غلبہ تھا تو کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ اس لئے گرجا کے خدام بننے لگے کہ ملکی ذمہ داریوں سے بچنا چاہتے تھے اور بہت سے افراد راہبوں کے حلقے میں اس لئے شامل تھے جو محض اس لئے کہ ہاتھ پیر ہلا کر روٹی نہ کھانا پڑے، خانقاہ میں جا کر راہب بن گئے تھے۔ (۸)

حضرت مولانا سعید احمد رائے پوری اس امر کو سامراج کا سب سے بڑا حملہ قرار دیتے ہیں کہ مذہبی طبقہ کو دین کے جامع تصور سے کنارہ کش کر دیا جائے اور ان میں سیاست سے نفرت پیدا کر دی جائے تاکہ مسجد فیل ہو جائے اور اس بے دین طبقہ کو غلبہ حاصل ہو جس کو سامراج نے اپنے نظام و ثقافت کے غلبہ کے لئے تیار کیا ہے۔ (۹)

قنوطی مذہب کو گو سیاست کی حیثیت ایک شجر ممنوعہ سے کم نہیں ہوتی لیکن یہ سیاسی مذہب کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونے لگتا ہے، اس کے دو غلے پن پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت مولانا رائے پوری کہتے ہیں کہ سیاست کے منکرین ملکی قائدین پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان لے کر دیا تو کیا پاکستان غیر سیاسی عمل سے حاصل ہوا ہے؟ اور ان علماء کرام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو شیخ الاسلام، شیخ التفسیر اور شیخ الحدیث کے القابات رکھتے ہیں کہ وہ تحریک پاکستان کے حامی تھے تو کیا انہوں نے سیاسی عمل کا ساتھ دے کر ''گناہ'' نہیں کیا؟ کیا وجہ ہے کہ جو سیاست علی گڑھ اور سرسید کے فکر سے پیدا ہو تو وہ اسلام اور جہاد اور جو سیاست شاہ ولی اللہ کے مکتب فکر سے ظاہر ہوا سے گناہ اور مذہب سے روکنے والا عمل قرار دیا جاتا ہے؟

ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ اور میدان عرفات کے اجتماع کو سیاست سے بالکل پاک ہونا چاہئے تو سوال یہ ہے کہ خطیب حرم منبر پر کھڑے ہو کر امریکہ کی موافقت کا سیاسی کردار کیوں ادا کرتا ہے۔ کیا وہ ''حرام'' کا مرتکب نہیں ہوتا؟ (۱۰)

سیاسی مذہب

اس مذہب کے ماننے والے، سیاسی مقاصد کے حصول کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، خواہ اس کے لئے رائج الوقت کوئی طریقہ بھی اختیار کرنا پڑے، ان کا مقصود قیام عدل اور تنفیذ شریعت کی بجائے محض حصول اقتدار ہوتا ہے۔ جس بناء پر سیاسی قلابازیاں اس مذہب کا ایک ناگزیر تقاضہ قرار پاتی ہے۔

چنانچہ سیاسی ضرورتوں کے تحت مذہب کا سہارا لینے والے جب اپنی ضرورتوں اور تقاضوں کے لئے موجودہ دین کا لباس تنگ محسوس کرتے ہیں تو وہ نئی نبوت کے اجراء سے بھی نہیں ہچکچاتے تاکہ ایک نئے مذہب کے تحت سیاسی ضرورتوں کی بہ آسانی تکمیل ہو سکے جیسا کہ انگریزی استعمار نے مسلمانوں کے جذبہ مقاومت کو سرد کرنے کے لئے ایک نیا مذہب ایجاد کیا جس نے استعمار کی کاسہ لیسی کو مذہبی فرائض میں شامل کیا چنانچہ اس طرح قادیانی مذہب وجود میں آیا جو در حقیقت ایک سیاسی مذہب تھا۔ اور قادیانی لٹریچر میں اس کے کئی ایک واضح شواہد موجود ہیں مثلا مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ اس نے جہاد کی

ممانعت اور انگریز کے حق میں اس قدر صفحات سیاہ کئے ہیں کہ پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ (۱۱)

اس کے علاوہ سیاسی مذہب ہی کی ایک شاخ بھی تھی، جس میں مغرب کی سیاسی بالا دستی اور فلسفی موشگافیوں سے مرعوب ہو کر دین کی ایسی تعبیر پیش کی گئی جس میں ایک طرف تو یورپ کی مادہ پرستی کو مذہب کی چھتری مل گئی اور دینی عقائد کی روح نکل کر رہ گئی اور دوسری جانب اسلام کی سیاسی سپرٹ اور روح جہاد کو مجروح کیا گیا۔ اس سلسلے میں سرسید احمد خاں مرحوم اور ان کے مکتب فکر کی کاوشیں نمائندہ حیثیت کی حامل ہیں۔

پھر اس مکتب فکر کو پاکستان میں جناب غلام احمد پرویز کے ہاتھوں جلا ملی جس میں دنیا کی زندگی کو ہی بنیادی حیثیت سے اجاگر کیا گیا گیا ہے، چنانچہ دین کی ہر بنیادی حقیقت کو محض مادی حوالے سے ہی پرکھا گیا ہے، چنانچہ اس تعبیر میں رسول کی اطاعت بحیثیت رسول نہیں بلکہ بحیثیت مرکز ملت کے جگہ پاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تعبیر کے نقطہ نظر سے رسول کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے اقوال و افعال لائق اطاعت اور قابل تقلید قرار نہیں پاتے۔

اسی مکتب فکر یعنی سیاسی مذہب کی نمائندگی بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ذرا مختلف انداز میں کی، گو انہوں نے سرسید احمد خاں اور غلام احمد پرویز کے کئی ایک نظریات سے واضح طور پر اختلاف کیا ہے لیکن بنیادی سوچ، مغرب کی مادیت سے ہی متاثر رہی ہے، یہی سبب ہے کہ ان کے سیاسی معاشی اور تاریخی افکار و حکمت عملیوں میں نہ صرف مادی بلکہ مغربی افکار کے سائے واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں اور مغرب سے تاثر قبول کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ دین کے روحانی پہلو کو ان کے فکر میں کوئی جگہ نہ مل سکی۔ کیونکہ ان کے ہاں در اصل دین کا لفظ قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانہ حال میں ''اسٹیٹ'' کے ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کا کسی بالاتر اقتدار کو تسلیم کر کے اس اطاعت کرنا ہی ''اسٹیٹ'' ہے اور یہی دین کا مفہوم بھی ہے۔ (۱۲)

مودودیات کے فارغ التحصیل بلکہ مدرس (۱۳) ڈاکٹر اسرار احمد بجا طور پر اسلام کی اس تعبیر کو مغرب کے فلسفہ و فکر کے ہمہ گیر تسلط کا براہ راست نتیجہ بتاتے ہیں جس نے نقطہ نظر کو ملحدانہ اور مادہ پرستانہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ (۱۴)

سیاسی مذہب کے علمبرداروں کی دو رنگی

زندگی کا جونقشہ مولانا وحید الدین خاں نے کھینچا ہے۔ اس سے اس مذہب کی حقیقت سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ سے غافل ہوں گے مگر مسائل عالم کے موضوع پر گفتگو کرنے سے ان کی زبان بھی نہیں تھکے گی۔ نماز کی ''اقامت'' سے انہیں کچھ زیادہ دلچسپی نہ ہوگی مگر وہ حکومت الہیہ قائم کرنے کا نعرہ بلند کریں گے۔ ان کی اپنی زندگی میں زبردست خلاء ہوں گے مگر وہ عالمی نظام کے خلاء کو پر کرنے کی باتیں کریں گے۔ ان کا گھر جہاں وہ آج بھی ''قوام'' کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں اپنی بساط بھر عام دنیا پرستوں کے گھر کی تقلید ہو رہی ہوگی مگر ملک کے اندر وہ قوام کی حیثیت حاصل کرنے کی تحریک چلائیں گے تاکہ ملک کو دنیا پرست لیڈروں کے اثرات سے پاک کر سکیں ان کا سینہ خدا کی یاد سے غافل ہوگا مگر وہ اقتدار حاصل کر کے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی تجویز پیش کریں گے تاکہ دنیا بھر میں خدا پرستی کا چرچا کیا جا سکے، اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے جن اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، ان پر عمل کرنےمیں وہ ناکام رہیں گے مگر ملکی نظام سے لے کر اقوام متحدہ کی تنظیم تک کی اصلاح کے لئے ان کے پاس درجنوں اصول موجود ہوں گے، ان کے کاغذی نقشے اور اخباری بیانات دیکھئے تو معلوم ہوتا کہ ملت اسلام کو انہیں کس قدر درد ہے کہ کسی مسئلے کا دور قریب کا رشتہ بھی اگر ملت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو وہ اس کو حل کرنے کے لئے بے قرار ہو جاتے ہیں لیکن ان کے قریب جا کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ان کے اس اظہار غم کی حیثیت رسمی تعزیت سے زیادہ نہیں ہے جو مرنے والے کے غم میں نہیں بلکہ صرف اس اندیشے سے کی جاتی ہے کہ زندہ رہنے والوں کو شکایت ہوگی۔ اپنے آج کے حاصل شدہ دائرے میں وہ نہایت سطحی اور غیر ذمہ دارانہ زندگی گزار رہے ہوں گے مگر اپنی انقلابی تحریک کی کامیابی کے بعد انہیں کام کا جو وسیع تر دائرہ حاصل ہوگا اس کا نقشہ اس طرح پیش کریں گے گویا خلاف راشدہ از سرنو دنیا میں لوٹ آئے گی۔'' (۱۵)

اس مذہب میں ملی شعائر کی ادائیگی نہایت بے دلی اور بد ذوقی سے کی جاتی ہے، نہ اس میں جذب وانجذاب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور نہ دلجمعی و اطمینان کی صورت جیسا کہ

قرآن حکیم میں منافقین کے بارے میں مذکور ہے کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھانے کے لئے اور برائے نام اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ (۱۶)

اس مذہب میں کذب گوئی اور وعدہ خلافی سے کام نکالنے کو ہنر سمجھا جاتا ہے اور یہ برائیاں اس مذہب کا ناگزیر حصہ بن جاتی ہیں۔

سیاسی مذہب میں قلبی روحانیت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اس لئے خواہشات کی حکمرانی اور حرص و ہوس کا غلبہ ہوتا ہے۔

بہر کیف اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب مذہب سیاسی اغراض و مقاصد کا آلہ کار بن جاتا ہے تو مذہب انسانی اور معاشرتی کمزوریوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے اور اقتصادی عدم توازن کی پشت پناہی کرنے لگ جاتا ہے، اس طرح پورے معاشرے پر عیش و عشرت کی ذہنیت مسلط کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں مغربی یورپ کے تقریبا نصف جاگیر دار چرچ کے نمائندہ تھے۔ (۱۷)

خلاصہ کلام حقیقی دین اور اس کے علمبردار اہل حق کے راستے میں مذہب کے عنوان کےتحت مختلف صورتوں میں (جن میں سے بعض کا تذکرہ ہوا) مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں تاکہ دین حق کو رو بہ عمل آنے سے روکا جا سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں موجود مذہبی رویوں کا تجزیہ کیا جائے اور ان کے حقیقی مقاصد کو بے نقاب کیا جائے۔

حوالہ جات

۱) تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو، مولانا محمد تقی امینی لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر (دہلی ندوۃ المصنفین، طبع اول ۱۹۵۶ء) ص ۱۵ تا ۳۵

۲) القرآن، سورۃ النساء آیت ۶۳

۳) تفصیلات کے لئے مولانا محمد تقی امینی لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر ص ۱۵ تا ۳۵

۴) ابوالوفاء مصطفی المراغی المطلباب فی شرح الشہاب (قاہرہ لجنۃ التعریف بالاسلام ۱۹۷۰ء) ص ۲۲

۵) ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب العمری مشکوۃ المصابیح جلد دوم (لاہور مکتبہ رحمانیہ) ص اباب الکسب وطب الحلال

۶) القرآن، سورۃ البقرۃ آیت ۸۵

۷) تفصیلات کے لئے مولانا محمد تقی امینی لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر ص ۱۵ تا ۳۵

۸) مولانا محمد تقی امینی لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر ص ۸۷ بحوالہ تاریخ اخلاق یورپ ج ۳ ص ۱۰۳

۹) محمد اسلوب قریشی (نگران اعلیٰ) عزم سیریز نمبر ۴۷، ۵۷ (عزیز پبلی کیشنر لاہور) ص ۱۵

۱۰) ایضاً ص ۷

۱۱) مرزا غلام احمد قادیانی تریاق القلوب (قادیان، مطبع ضیاء الاسلام ۱۹۰۰ء) ص ۲۷

۱۲) سید ابو الاعلیٰ مودودی تحریک آزادی ہند اور مسلمان حصہ دوم (لاہور اسلامک پبلی کیشنر لمیٹڈ، طبع پنجم ۱۹۸۱ء) ص ۲۳

۱۳) ڈاکٹر اسرار احمد نے یہ القابات اپنے بارے میں مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالوی کے حوالے سے نقل کئے ہیں۔ (ماہنامہ حکمت قرآن اشاعت خصوصی (لاہور دفتر مرکزی انجمن خدام القرآن ماڈل ٹاؤن جنوری و فروری ۱۹۹۰ء) جلد ۹ شمارہ ۱۔۲ ص ۱۳۰

۱۴) ڈاکٹر اسرار احمد ماہنامہ حکمت قرآن جلد ۹ شمارہ ۱۔۲ ص ۴۵، ۴۶

۱۵) مولانا وحید الدین خاں تعبیر کی غلطی (لاہور المکتبۃ الاشرفیہ فیروز پور روڈ، طبع ثانی ۱۹۸۶ء) ص ۲۷۶

۱۶) القرآن، سورۃ النساء آیت ۱۴۲

۱۷) مولانا محمد تقی امینی لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر ص ۱۱

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں