نئی علاقائی صف بندی؛ مشرقِ وسطیٰ

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان
اکتوبر 19, 2020 -
نئی علاقائی صف بندی؛ مشرقِ وسطیٰ

23؍ستمبر 2020ء کو بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزینی اور اسرائیلی کے وزیراعظم بن یا من نیتن یاہو نے 15؍ ستمبر کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں معمول کے تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے، جسے ’’ ابراہام معاہدہ‘‘ (Abraham Accord Deal) کا نام دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ’’کم از کم پانچ یا چھ عرب ملک بہت جلد اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے‘‘۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: ’’سعودی عرب مناسب وقت پر سمجھوتہ کرنے کا اعلان کرے گا‘‘۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’’سعودی عرب کا اصل دشمن اسرائیل نہیں، بلکہ ایران ہے‘‘۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید نے کہا ہے کہ: ’’یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں تبدیلی لانے کا باعث بنے گا‘‘۔

15؍ ستمبر کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں طے پانے والے ’’ابراہام معاہدہ‘‘ کے بعد 2002ء کا ’’عرب امن منصوبہ‘‘ جسے ’’سعودی عرب امن منصوبہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، عملاً ختم ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ 2002ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں پیش کرکے منظور کروایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عرب لیگ میں شامل 22 ملکوں نے عزم کیا تھا کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نہیں کرلیا جاتا، اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے۔ نیشنل سکیورٹی کے فیکلٹی کے طلبا کی گریجویشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کھلے عام اعلان کیا تھا کہ: ’’عرب ممالک یہ راز جان گئے ہیں کہ اسرائیل سے تعاون کرنے میں توانائی موجود ہے، جس سے خطے میں اسلامی انتہا پرستی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔ ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رُسوخ کو اسلامی انتہا پسندی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے پسِ پردہ تعلقات چلے آرہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پہلی خلیجی ریاست تھی، جس نے 13؍ اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا۔ بی بی سی کی اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات ایک عرصے سے خطے میں بڑی جارحانہ اور سرگرم خارجہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔‘‘ یہ علاقائی تنازعات میں بڑھ چڑھ کر لیکن اکثر خفیہ طور پر کردار ادا کررہا ہے۔ مثال کے طور پر لیبیا اور یمن میں یہ بہت سرگرم ہے، تاکہ شدت پسند گروہوں اور ایران کو اپنا اثر و رُسوخ بڑھانے سے روکا جاسکے۔

خطے میں اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کے لیے اماراتی حکام اور ان کے ذرائع ابلاغ یہ دعوے کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں میں مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ارادے کو ترک کردیا ہے۔  انڈی پینڈنٹ اخبار کی 14؍ اگست 2020ء کی رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید کے مطابق ’’امریکی صدر ٹرمپ سے مزید فلسطینی علاقوںکو اسرائیل میں ضم کرنے کی کاروائی روکنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے‘‘۔ جب کہ نیتن یاہو نے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ: ’’اسرائیل کے انضمام کا منصوبہ ابھی میز پر موجود ہے اور میں دریائے اُردن کے مغربی کنارے فلسطینی علاقوں کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کے وعدے پر قائم ہوں‘‘۔ سعودی اخبار کے ایک تجزیہ نگار اُسامہ یمنی کے مطابق ’’اسرائیل ایک دانش مند دشمن ہے، جب کہ آج ہمارے اصل دشمن ترکی اور ایران ہیں‘‘۔ ایک عالمی نیوز ایجنسی MEI کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ: ’’فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن ناممکن ہے‘‘۔ ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ: ’’مسئلہ کشمیر و فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا‘‘۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ: ’’چین فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی اٹل حمایت جاری رکھے گا‘‘۔

وہ بادشاہ جو آج امریکی اشیرباد سے ریت کے گھروندوں پر بادشا ہتیں سجائے ہوئے ہیں، غلامی کی بد ترین مثال بنے ہوئے ہیں۔ ماضی میں آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے مستقبل میں بھی اسی قسم کے کردار کا عملی نمونہ ثابت ہوںگے۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ آقاکی سیاسی آغوش کے کھوجا نے کے بعد تیز آندھیوں کے جھکڑ اُنھیں روند ڈالیں اور یہ اوندھے منہ گہری وادی میں جا گریں۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان

مرزا محمد رمضان