مال کے استعمال کے آداب (1)

مال کے استعمال کے آداب  (1)

مال کے استعمال کے آداب  (1)

حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ: سمعتُ أَبَا أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ: ’’یَاابْنَ آدَمَ! إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَیْرٌ لَکَ، وَأَنْ تُمْسِکَہُ شَرٌّ لَّکَ، وَلَا تُلاَمُ عَلٰی کَفَافٍ، وَابْدَأ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِالسُّفْلٰی۔‘‘

(سیّدنا ابو اُمامہ رضی اللہ عنہٗ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے اولادِ آدم! ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے۔ اسے روک کر رکھنا تیرے لیے شرّ ہے۔ ہاں! اس قدر بچانا قابلِ ملامت نہیں، جو تیری ضرورت کے لیے کافی ہو۔ مال خرچ کرنے کی ابتدا اُن سے کر، جن کی ذمہ داری تجھ پر عائد ہوتی ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔‘‘ (الصّحیح المسلم: 2388)

مال کے استعمال کا متوازن طرز ِعمل کیا ہے؟ زیرِنظر حدیث میں تین پہلوئوں کے حوالے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے: (1) آپﷺ نے سرمایہ پرستی اور مال و دولت جمع کیے رکھنے کی دُھن سے منع فرمایا ہے۔ اس طرز ِعمل کو رسول اللہؐ نے انسان کے لیے شر اور وَبال قرار دیا ہے۔ آپؐ نے مزید فرمایا کہ ’’انسان اپنی ضرورت کے مطابق مال کو اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتا ہے‘‘۔ یوں آپؐ نے دوسری انتہا سے بھی منع کیا کہ آپ اپنا سارا مال خرچ کرکے مجبور اور محتاج ہوجائیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی محتاج کردیں۔ چناںچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے رسول اللہؐ سے اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں دینے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے انھیں منع فرمایا۔ جب انھوں نے ایک تہائی مال خرچ کرنے کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔ ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ: ’’تم اپنے ورثا کو مال دار چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو فقیر اور محتاج کرکے چھوڑو اور وہ تمھارے بعد لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘ (رواہ البخاری)

(2) اس حدیث ِمبارکہ میں نبی اکرمﷺ نے دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ آپ کے مال پر سب سے زیادہ حق اُن کا ہے، جو آپ کے زیرِکفالت ہیں۔ گویا ایک مؤمن کو سب سے پہلے اپنے زیرِکفالت لوگوں کا مکمل ذمہ دار بننا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے۔ حدیثِ مبارکہ میں ’وابدأ‘ کا لفظ قابلِ غور ہے، یعنی خرچ کرنے کا آغاز انسان اپنے قریبی رشتے داروں سے کرے۔ دیگر احادیث و آیات کی روشنی میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق تمام معاشرتی دائروں میں اپنا حصہ ڈالنے کا ذمہ دار بھی ہے۔ مذکورہ بالا دونوں اُمور کی روح کے مطابق اگر کسی معاشرے کا اجتماعی ماحول بن جائے تو ابتدائی سطح پر بھی سماج کے بے شمار مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ یہ طرز ِعمل حسنِ خلق اور انسانی اَقدار کے لحاظ سے انفرادیت کے بجائے اجتماعیت پسندی اور بندہ نوازی کا ہے۔

جس معاشرے میں مذکورہ متوازن رویہ ختم ہوجائے، دولت کو سمیٹنا اور سرمایہ پرستی کا مرض عام ہوجائے تو ایسا معاشرہ جہنم کدہ بن جاتا ہے، جس سے دین میں ممانعت ہے۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں