گناہگاروں پر دُنیا کی فراوانی کا مقصد

گناہگاروں پر دُنیا کی فراوانی کا مقصد

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامرٍ عَنِ النَّبِيِّﷺ: قَالَ إذا رَأَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیہِ مَا یُحِبُّ فَإِنَّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّہُﷺ:فَلَمَّا نَسُوۡا مَا  ذُکِّرُوۡا بِہٖ  فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ  اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی  اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ  اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً  فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ


(الانعام: 44)  (مسند احمد: 17311)

 

(حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود دُنیا میں اسے وہ کچھ عطا فرما رہا ہے جو وہ چاہتا ہے تو یہ اِستدراج (ڈھیل) ہے۔ پھر نبیﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ: ’’جب انھوں نے ان چیزوں کو فراموش کردیا، جن کے ذریعے انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ حتیٰ کہ جب وہ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اِترانے لگے تو ہم نے اچانک انھیں پکڑ لیا اور وہ نااُمید ہوکر رہ گئے‘‘۔)

زیرِنظر حدیث کے مطابق اللہ کے نافرمانوں کے پاس کثرتِ دولت ان کی آزمائش کے لیے ہوتی ہے۔ ان کی مجرمانہ زندگی کے باعث یہ مالی فراوانی بالآخر ان کے لیے عذاب کا سبب بن جاتی ہے۔ چناں چہ قرآن میں ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی نافرمانی میں اتنے بڑھے کہ خدا کو بھول گئے تو پھر اللہ نے ان پر نعمتوں کے دروازے کھول دیے، حتیٰ کہ وہ اس میں مگن ہوگئے۔ اسی غفلت میں پڑے ان لوگوں کو اللہ اچانک پکڑ لیتے ہیں، پھر ان کی خوشیاں ہَوا ہوجاتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ اصول دُنیوی کامیابی اور ناکامی کے لحاظ سے ہے، جب کہ اُخروی کامیابی کاتعلق عمدہ اَخلاق اور درست عقائد سے ہے۔

یہ قانونِ قدرت فرد اور اَقوام دونوں کے لیے ہے۔ اسی لیے آپﷺ نے قرآن سے جماعت اور قوم کی مثال دی ہے۔ گویا کسی فرد پر محض دنیا کی فراخی‘ اللہ کے ہاں رضامندی کی علامت نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے بعض نیک بندوں حتیٰ کہ انبیا علیہم السلام پر بھی دنیا بڑی تنگ ہوتی ہے۔ وہ فاقوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس لیے رسول اللہؐ نے یہ امر واضح کردیا کہ کسی کے پاس دنیا کی کثرت‘ اللہ کے ہاں اس کے مقبول ہونے کا معیار نہیں ہے۔ بالخصوص جب کہ وہ مال استحصال اور ظلم کے ذریعے حاصل کیاگیا ہو۔ اللہ کے ہاں قبولیت کا معیار یہ ہے کہ انسان کی ذاتی اور اجتماعی کل زندگی راہِ ہدایت پر ہو۔

اسی طرح اجتماعی دائرے میں کسی قوم سے خدا کے راضی ہونے کی علامت یہ ہے کہ ان کی قومی زندگی عدل و انصاف، اجتماعیت پسندی اور انسان دوستی کی ہو۔ آج جب ہم اپنی قومی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کی حالت دِگرگوں ہے۔ حاکم و محکوم دونوں بداَخلاق اور قانون شکن ہیں۔ گویا ہمیں اجتماعی زوال کا سامنا ہے۔ لہٰذا جزوی ترقی یا محدود دائرے میں کوئی کامیابی، اصل کامیابی نہیں ہے۔ مکمل کامیابی یہ ہوگی کہ فرد اور قوم خدا پرستی اور انسان دوستی کی راہ پر گامزن ہوجائے۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں