ڈالر کا زوال

ڈالر کا زوال

لین دین کے نظام میں نت نئی اختراعات اور ان میں چھپے ہوئے سٹے کی سکیمیں دراصل ایک ایسا جال ہے، جو آج کے دور میں عالمی تنازعات اور معاشی بربادی کی وجہ بن چکا ہے۔ Legal Tender کا تصور دنیا میں بہت قدیم ہے۔ اٹھارہویں صدی میں اس تصور نے لین دین کے نظام میں کافی سہولیات فراہم کیں۔ اس تصور کی وجہ سے ایک بڑی مقدار میں سونا و دیگر قیمتی دھاتوں کی ترسیل کے مشکل ترین اُمور کو سہل بنایا گیا۔ بین الاقوامی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوسکا۔ لیکن ہوا وہی کہ اس سہولت کو بھی تدریجاً انسانیت کے لیے وبالِ جان بنا دیا گیا۔ 
چناں چہ Legal Tender کی صورت میں کرنسی نوٹوں کی بھرمار کر دی گئی اور اس امر کو ضروری نہیں سمجھا گیا کہ مطلوبہ قیمتی دھات اس کے بدلے میں محفوظ رکھی جائے۔ بعد ازاں اس قیمتی دھات کے تصور میں پیداوار کو بھی ڈال دیا گیا اور قرار پایا کہ اب کرنسی کی چھپائی پیداوار اور اس کی مطلوبہ قیمت کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس پر طُرّہ یہ کہ ڈالر کو تمام کرنسیوں کی ماں اور دنیا میں تجارتی لین دین کی بنیاد قرار دے دیا گیا۔ سب نے اس تصور کو قبول نہیں کیا، لیکن ایشیا و افریقا کی غریب اور مغلوب اقوام کی تابع داری، تیل اور اسلحے کی عالمی تجارت میں امریکی اجارہ داری نے ڈالر کو قانونی حیثیت دلوا دی اور عالمی تجارت کا غالب حصہ ڈالر کا مرہونِ منت رہا۔
حالیہ دہائیوں کے دوران عالمی تجارت میں چین جیسے نئے کھلاڑیوں کی آمد کی وجہ سے امریکا اور ڈالر کی اجارہ داری کو کافی دھچکا لگا ہے۔ خصوصاً آخری پانچ سالوں میں ڈالر کی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے سونا، چینی یوآن اور کریپٹوکرنسی ہر گزرتے دن میں مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ ان متبادل ذرائع کے مضبوط ہونے کی دو وجوہات ہیں: ایک دنیا میں تازہ دم اور آزاد معاشی قوتوں کا استحکام اور دوسرا امریکی معیشت پر پیداوار سے زائد قرضوں کا بوجھ اور ریکارڈ ادائیگیوں کا خسارہ ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ امریکا پر کُل 220 کھرب ڈالر کا اندرونی اور بیرونی قرضہ ہے، جس میں صرف چین کا حصہ 11 کھرب ڈالر سے زائد کا ہے۔ 
امریکا کی مقامی قرضوں کی فراہمی کرونا وبا کے بعد اس قدر زوال کا شکار ہو چکی ہے کہ اب ڈالر چھاپنے یا چین جیسے بیرونی سرمایہ کاروں سے مزید قرض لینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔ چناںچہ ان عالمی حالات میں صرف چین ہی ہے جو معاشی حوالے سے اس قابل ہے کہ امریکا کے مرکزی بینک کو قرض دیتا رہے۔ گویا امریکا کی محدود مدتی معاشی بقا کا دارومدار چین پر ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پہلے سے ہی زائد الرسد ڈالر جو دراصل اپنی 32 فی صد حیثیت کھو چکا ہے، عالمی سطح پر بھی اپنی قدر کھو سکتا ہے۔       ڈالر کی قدر کھونے کے نتیجے میں چین کے ساتھ ساتھ ان معیشتوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے، جہاں ڈالر کے ذخائر قدرے زیادہ مقدار میں موجود ہیں، لیکن چین جیسی معیشت کے لیے یہ دھچکا جزوقتی ہوگا۔ کیوںکہ وہ پہلے ہی معاشی تنوع پر کام کرتے ہوئے دیگر عالمی مالیاتی و تجارتی اثاثے بنا چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے میں پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے اور اگر ہماری مقتدرہ کی مفاد پرستی اور چالاکی آڑے نہ آئی تو پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بہتر ہو سکے گی۔ یہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد فراہم کرے گی۔

Source: Rahimia Magazine November,2020
Tags
No Tags Found