کورونیت

کورونیت

لگ بھگ ایک دہائی قبل دسمبر 2009ء میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی ایک تحقیق مکمل کرتا ہے۔ چند ماہ کے جائزے کے بعد آخرکار مئی 2010ء میں وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردیتا ہے۔ اس ادارے کا نام راک فیلر فاؤنڈیشن (Rockefeller Foundation) ہے۔ یہ رپورٹ اس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس رپورٹ کا نام Scenario for the Future of Technology and International Development ہے۔ جیسا کہ اس رپورٹ کے نام سے واضح ہے، اس رپورٹ کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ مستقبل میں مختلف منظرناموں Scenarios کی صورت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیسے اپنا کردار ادا کرے گی۔ 
اب دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں چار منظر نامے تصور کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ دنیا میں ایک عالمی وبا (Pandemic) پھیل جاتی ہے۔ اب اس تصوراتی منظر نامے میں جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں، وہ ملاحظہ فرمائیں: 
1۔     دنیا میں ایک عالمی وبا پھیل جاتی ہے، جو دنیا کی 20 فی صد آبادی کو متأثر کرتی ہے اور تقریباً 80 لاکھ لوگوں کو ہلاک کردیتی ہے۔ 
2۔     اس وبا کی وجہ سے انسانوں کی بین الاقوامی آمد و رفت اور اشیائے خورد و نوش کی درآمدات و برآمدات پر پابندی لگ جاتی ہے۔ 
3۔     سیاحت (Tourism) کی انڈسٹری تباہ ہوجاتی ہے اور بین الاقوامی رسد و طلب کو روک دیا جاتا ہے۔ 
4۔     دنیا کی چمکتی دمکتی عمارتیں اور کاروبار ویران ہوجاتے ہیں اور لاکھوں افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
5۔     افریقا، ساؤتھ ایشیا اور سینٹرل امریکا میں یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ کیوںکہ وہاں لاک ڈاؤن (Lockdown) پر باقاعدہ عمل نہیں ہوتا۔ 
6۔     ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی شہریوں کو لاک ڈاؤن کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اور امریکا میں ابتدا میں نرمی کی وجہ سے یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل کر ہزاروں افراد کو لقمۂ اَجل کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ 
7۔     چائنا (China) انتہائی سخت پابندیوں (Lockdown mandatory) پر عمل کرتا ہے اور باقی ممالک کے نسبتاً بہت جلد اس وبا پر قابو پا لیتا ہے۔ 
8۔     اس عالمی وبا کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک کے حکمران اپنے اپنے طریقے سے طبی اصول و ضوابط پر عمل درآمد شروع کردیتے ہیں۔ 
9۔     تمام ممالک میں فیس ماسک (Face Masks) پہننا لازمی قرار دے دیا جاتا ہے اور جگہ جگہ داخلی جگہوں پر بخار (Temperature) چیک کرنا عام ہوجاتا ہے۔ 
10۔ مختلف ممالک کے حکمران اس وبا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اقتدار کو اَور مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہاں تک کہ کئی ممالک میں قانون سازی کے ذریعے اس لاک ڈاؤن کو اَور مؤثر بنانے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیں۔ 
11۔ انڈیا میں "Air Quality Level" بہت تیزی سے تبدیل ہوجاتا ہے۔ 
12۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس لاک ڈاؤن میں لوگوں کی رضامندی شامل ہونا شروع ہوجاتی ہے اور وہ اپنی خود مختاری پر سمجھوتا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بہرحال ایک وقت آتا ہے جب دنیا اس قرنطینہ (Quarantine) سے تنگ آجاتی ہے اور اس وقت حکومتوں کو شدت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ 
13۔ ترقی یافتہ ممالک میں موجود آئی ٹی قوانین (IT regulations) کو روک دیا جاتا ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط حکمران سائنس اور ٹیکنالوجی کے اداروں کو اپنی ترجیحات کے مطابق ایجادات کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ 
14۔ یہ نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجادوں کا وجود و اِطلاق زیادہ تر صرف ترقی یافتہ ممالک میں ہی ہوتا ہے اور ترقی پذیر ممالک ان کو صرف اختیار کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ 
15۔ امریکا اور یورپ کو اتنی جلدی یہ ٹیکنالوجی بنانے پر دنیا بھر سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر دنیا میںانفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے کچھ چیزیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ہوائی اڈوں پر FMRI scanners لگا دیے جاتے ہیں۔ اسمارٹ پیکیجنگ (smart packaging) کا اطلاق ہوتا ہے۔ متعدی اور وبائی بیماریوں کے لیے نئے آلاتِ تشخیص (diagnostics) وجود میں آتے ہیں اور ایک دوسرے منظرنامے کے تحت ویکسین (vaccines) بنائی جاتی ہیں۔ 
ایک منٹ رُکیے! یاد رہے کہ یہ ان اوپر دیے گئے بیانات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ تو بس ایک منظرنامہ ہے، جو دس سال پہلے کھینچا گیا تھا۔ 
آئیے! اب ایک اَور کہانی سنتے ہیں۔ مائیکروسوفٹ (Microsoft) کمپنی کا مالک بل گیٹس (Bill Gates) دنیا کا امیر ترین شخص ہے، یا رہ چکا ہے۔ اوپر دی گئی تحقیق کے مکمل ہونے سے کچھ عرصہ پہلے 2008ء میں Bill Gates نے اپنی کمپنی مائیکرو سافٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کیوںکہ وہ اپنے تحقیقاتی فلاحی ادارے ’’بل گیٹس ملنڈا فاؤنڈیشن‘‘ (Bill Gates & Malinda Foundation) کو وقت دینا چاہتا تھا۔ اس ادارے کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر ویکسین (vaccines) مہیا کرتے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے تشخیصی آلات بھی بناتے ہیں۔ 
برطانیہ میں ایک اور فلاحی ادارہ ’’ویلکم ٹرسٹ‘‘ (Wellcome Trust) کے نام سے کام کرتا ہے، جسے دنیا کا چوتھا بڑا فلاحی ادارہ کہا جاتا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد اس شعبے میں کام کرنا ہے، جو انسان کے زندہ رہنے اور خلافِ معمول کام کرنے کی استعداد سے تعلق رکھتا ہے؛ بائیومیڈیکل سائنس (Bio-Medical Science) ۔ 
2015ء میں ان دونوں اداروں یعنی بل گیٹس فاؤنڈیشن اور ویلکم ٹرسٹ کے اتحاد سے ایک "Global Health Innovation Fund" کا قیام ہوتا ہے، جس کا مقصد ان دونوں اداروں کے مقاصد کے لیے فنڈز مہیا کرنا ہوتا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں بل گیٹس متعدد مواقع پر عالمی وباؤں کے پھیل جانے کے خدشات کا اظہار کرتا ہے اور یوٹیوب پر اس کی درجنوں ویڈیوز بہ آسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ خاص طور پر وہ اپنی ایک ویڈیو میں دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ہی وائرس (Virus) کو قرار دیتا ہے۔ 
جنوری 2017ء میں ایک اَور ادارہ CEPI" "، (Coalition for Epidemic Preparedness Innovations) کے نام سے وجود میں آتا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد عالمی وباؤں کے لیے نئی ویکسین بنانا ہوتا ہے۔ یہ ادارہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں World Economic Forum کے تحت قائم ہوتا ہے اور اس کے بنانے والے کوئی اَور نہیں، بلکہ بل گیٹس فاؤنڈیشن اور ویلکم ٹرسٹ ہی ہیں۔ یورپین یونین اور برطانیہ بھی 2019ء اور 2020ء میں اس ادارے کے ممبرز بن جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ آج وبا آجانے کے بعد پوری دنیا ویکسین کے لیے اسی ادارے کی طرف دیکھ رہی ہے۔ 
یہ 8؍ اکتوبر 2019ء کی صبح ہے جب نیویارک کے ایک ہوٹل میں ’’ایونٹ 201‘‘ (Event 201) کے نام سے ایک تقریب ہوتی ہے، جس میں دنیا کے چند بڑے اداروں کے افسران شرکت کرتے ہیں۔ اس تقریب کو بھی بل گیٹس فاؤنڈیشن منعقد کرواتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تقریب میں فرضی ویڈیوز (Pre-recorded videos) دکھائی جاتی ہیں کہ دنیا میں وائرس آچکا ہے۔ اس پر ہم نے کیا تیاری کرنی ہے؟ یہ ساری ویڈیوز (videos) یوٹیوب پر آن لائن دیکھی جاسکتی ہیں۔ 
اب اتفاق دیکھئے کہ اس تقریب کے تقریباً 2 ماہ بعد ہی دنیا میں وائرس آجاتا ہے اور وہی سب کچھ ہونے لگتا ہے، جو اِن ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے۔ شاید یہ اتفاق ہی ہو، مگر ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد بہت حد تک ممکن ہے کہ آپ کو یہ اتفاق نہ لگے۔ 
اب چلتے ہیں تیسری اور آخری کہانی کی طرف! مئی 2016ء کا مہینہ ہے اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک سمٹ (Summit) وجود میں آتی ہے، جس کا نام ID-2020 رکھا جاتا ہے۔ اس ادارے کی ویب سائٹ www.id2020.org ہے۔ اس ادارے کے وجود کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کی بین الاقوامی شناخت ہونی چاہیے۔ اسے ’’ڈیجیٹل شناخت‘‘ (Digital Identity) کا نام دیا گیا۔ اس ادارے کا کہنا یہ ہے کہ اس شناخت کو ویکسین کے ذریعے تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ اس ادارے کو بنانے والے بھی آپ کے لیے نئے نام نہیں ہیں، بلکہ وہی ویلکم ٹرسٹ، بل گیٹس ملنڈا فاؤنڈیشن اور راک فیلر فاؤنڈیشن ہیں۔ یہ ادارہ اپنا کام شروع کرچکا ہے اور بنگلادیش میں حکومت کی رضامندی سے اس ڈیجیٹل آئیڈنٹٹی کو اپنا بھی لیا گیا ہے۔ 
یہ تینوں کہانیاں سن کر آپ اتنا تو بہ آسانی سمجھ گئے ہوں گے کہ ان اداروں کی یہ دس سالوں کی کوششیں اب رنگ لانے کو ہی ہیں اور شاید جلد ہی دنیا میں وہ ویکسینز مہیا کردی جائیں گی، جو دراصل وہ نسخۂ کیمیا ہے، جس سے اس دنیا کو قابو کیا جاسکے، یا ایک نظامِ نو کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اس عالمی وبا کی حقیقت تو شاید میڈیکل سائنس سے وابستہ لوگ بہتر سمجھ سکیں، مگر محترم قارئین سے میرا صرف ایک سوال ہے کہ آپ کو اس وبا میں کورونیت کا عنصر کم اور فرعونیت کا عنصر زیادہ نظر نہیں آتا؟ 
(ماخوذ: روزنامہ دُنیا لاہور، سنڈے میگزین، 31؍ مئی 2020ء، ص: 3) 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں