چین بھارت تنازعہ ؛ لداخ

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان
اگست 04, 2020 - عالمی
چین بھارت تنازعہ ؛ لداخ

لداخ اپنی قدرتی خوب صورتی اور پیچیدہ زمینی خدوخال کی وجہ سے مشہور ہے۔ پُراسرار اور دیو مالائی کہانیوں کا دیس کہلاتا ہے۔ اسے ’’سفید پتھروںکا صحرا‘‘ بھی کہتے ہیں۔ دنیا کے بلند ترین اور دُشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں تبت، لداخ اور سنکیانگ کی سرحدیں ملتی ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان مشترکہ سرحد 3,488 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اُتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش کے علاقے شامل ہیں۔ یہ سرحدیں بنیادی طور پر تین سیکٹرز میں منقسم ہیں۔ جموں و کشمیر سے ملحق مغربی سیکٹر، ہماچل پردیش اور اُتراکھنڈ سے منسلک مڈل سیکٹر اور مشرقی سیکٹر میں ارونا چل پردیش اور سکم شامل ہیں۔ 
مؤ رّخین نے لکھا ہے کہ: ’’لداخ کی گزشتہ 1500 سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس ویران علاقے میں موجودہ تنازعہ ایک پرانے سلسلے کی کڑی ہے۔‘‘ 1962ء میں انڈیا اور چین کی جنگ کے ایک سال بعد شائع ہونے والی ایک انگریزی کتاب "Himalayan Battle Ground: Saino India Rivalry in Ladakh" (ہمالیائی میدانِ جنگ: لداخ میں انڈیا چین دشمنی) مصنّفین کے ایک گروپ نے مرتب کی تھی، جن میں مارگریٹ ڈبلیوفشر، لیو ای روز، رابرٹ اے اور ہیٹن بیک شامل تھے۔ یہ سرد جنگ کا دور تھا۔ اس وقت دونوں ممالک عالمی سیاست میں امریکی بلاک کا حصہ نہ تھے، البتہ جس ادارے نے مصنّفین کا بورڈ تشکیل دے کر کتاب لکھوائی تھی، یقینا اس کے پسِ پردہ کچھ نہ کچھ مستقبل کی پیش بندی تھی، جو آج نظر آرہی ہے۔ مصنّفین لکھتے ہیں کہ: ’’یہ معاملہ انڈیا اور چین کی قومی سلامتی اور وسیع تر اقتصادی اور سیاسی مفادات کا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ علاوہ ازیں اس علاقے کی معدنی دولت (سنکیانگ میں تیل کے ذخائر اور تبت میں سونے اور یورینیم کی موجودگی) کا بھی ذکر موجود ہے۔ 
ایک اَور مؤرخ سکھ دیوسنگھ اپنی کتاب ’’جرنیل زور آور سنگھ‘‘ میں لکھتا ہے کہ: ’’گلگت بلتستان اور لداخ ساتویں اور آٹھویں صدیوں میں چین، تبت اور عباسی عہد ِحکومت کے خلیفہ ہارون الرشید کے درمیان بھی سیاسی کش مکش کا مرکز رہے ہیں۔‘‘ ایک اَور مؤرخ پرتھوی ناتھ کول بامزئی اپنی کتا ب ’’اے ہسٹری آف کشمیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’1586ء میں اکبر بادشاہ کے دور میں بھی لداخ ہندوستان کے زیرِ اثر تھا۔ کیوںکہ انھوں نے اپنے کشمیر کے دورے کے دوران لداخ کے اس وقت کے حکمران اجو رائے کو ہٹا کر اس کی جگہ علی رائے کو وہاں تعینات کیا تھا۔ اسی طرح 1665ء میں اورنگ زیب کے دور میں بھی لداخ مغلیہ سلطنت کا مطیع و فرماں بردار تھا۔‘‘ سکھ دیو سنگھ مزید لکھتا ہے کہ: ’’1752ء میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں بھی لداخی کشمیر کا حصہ ہونے کے ناطے اس کی سلطنت کے تابع تھے۔‘‘ (رپورٹ: 24؍ جون 2020ء بی بی سی اُردو لندن)  اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب شائع کرنے والا ادارہ آج بھی اپنی پرانی روش پر قائم ہے، یعنی دنیا کے اندر سیاسی کش مکش کو ہوا دے کر بداَمنی پیدا کرتا ہے۔ لداخ کو بھارت کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چوںکہ چین برطانوی اور امریکی اداروں کا سیاسی حریف ہے، اس لیے وہ چین کے مقابلے میں بھارتی مؤقف کو تقویت پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ورنہ یہی چین جب 1970ء کی دہائی میں عالمی سیاست میں روس کے مقابلے میں آیا تھا تو پورے مغربی یورپ کی آنکھ کا تارا تھا۔ جہاں تک سرحدوں کا تعلق ہے تو یہ سرحدیں 1945ء میں بننے والے عالمی ادارے کی طے کردہ ہیں۔ اس کے باوجود چین اور انڈیا کے درمیان 1500 کلومیٹر کا علاقہ آج بھی تصفیہ طلب ہے۔ اقصائے چین میں موجود وادیٔ گلوان کے سبب دونوں ممالک کے مابین تنائو کی ابتدا ہوئی۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ وادیٔ گلوان میں چینی فوج کے خیمے دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے بھی فوج کی تعداد میں اضافہ کردیا۔ 9؍ مئی کو شمالی سکم میں بھارتی اور چینی فوجوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ بی بی سی کی 19؍ جون کی رپورٹ کے مطابق 15؍ اور 16؍ جون کی شب لداخ میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے، جن میں ایک کرنل بھی شامل تھا۔ جب کہ چین کی جانب سے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژائو لیبیان کے مطابق ’’چین مزید تنازعات نہیں چاہتا۔ صورتِ حال اب مستحکم اور قابو میں ہے۔ ‘‘ چین کے سرکا ری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق انڈیا نے اس علاقے میں دفاع سے متعلقہ غیر قانونی تعمیرات کی ہیں، جس کے باعث چین کو وہاں فوجی تعیناتی میں اضافہ کرنا پڑا۔ اَخبار مزید لکھتا ہے کہ: ’’انڈیا کووِڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی پریشانیوں کا شکار ہے اور اس نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے گلوان میں تنائو پیدا کیا ہے۔‘‘ یہاں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LINE OF ACTUAL CONTROL) یعنی LAC چین کو انڈیا سے الگ کرتی ہے۔ انڈیا اور چین دونوں اقصائے چین پر اپنی اپنی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔ دوسری جانب بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اس تنازعے کا سفارتی حل نکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی حوالے سے ان تینوںکے درمیان روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات ہوئے ہیں۔ "The diplomat" اخبار کی 22؍ جون کی رپورٹ کے مطابق ’’ماسکو کا خواب ہے کہ دنیا کی تین بڑی طاقتوں یعنی روس، چین او ر انڈیا کو ایک ہو کر عالمی اور علاقائی مسائل کو حل کرنا چاہیے۔‘‘ 
وادیٔ گلوان میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکتیں اندرونِ ملک وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے 3؍ جولائی بروز جمعہ کو چین اور بھارت کے درمیان تنازعہ بننے والے علاقے لداخ کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ حقیقت میں بیجنگ اور دہلی دونوں میںسے کوئی بھی تصادم کے حق میں نہیں ہے۔ ماسکو میں مذاکرات کا منعقد ہونا ہی امن کی علامت ہے۔ حال آںکہ امریکی صدر کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ ثالثی کے لیے تیار ہے، جسے دونوں نے ہتک آمیز حدتک نظر اندازکیا ہے۔ دوسری طرف خود ٹرمپ بھارتی وزیراعظم کو متنبہ بھی کررہا ہے کہ: ’’ چین کے ساتھ جنگ میں مت اُلجھنا، کیوںکہ وہ اپنی پسند کا محاذ کھول سکتا ہے۔‘‘

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان

مرزا محمد رمضان نے ساہیوال میں 1980 کی دہائی کے آغاز میں حضرت مولانا منظور احسن دہلویؒ کی مجالس سے دینی شعور کے سفر کا آغاز کیا اور پھر حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ سے ان کی رحلت تک تعلیم و تربیت کا تعلق استقامت کے ساتھ استوار رکھا۔ اب حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ سے وابستہ ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے معاشیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور 33 سال تک پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ادارہ آئی بی پی میں پانج سال تک معاشیات، اکاونٹس اور بینکنگ لاز میں تعلیم دیتے رہے۔ معیشت کے ساتھ ساتھ آپ قومی و بین الاقوامی امور و حالات حاضرہ پر مجلہ رحیمیہ میں گزشتہ کئی سالوں سے "عالمی منظر نامہ"کے سلسلہ کے تحت بین الاقوامی حالات  حاضرہ پر  مضامین لکھ رہے ہیں۔